نئی دہلی، 16؍ جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی بدھ کے روز لگاتار تیسرے دن ای ڈی کے دفتر میں سوالات کا سامنا کرنے کے لئے پہنچے لیکن اس سے قبل اپنے لیڈر کی طلبی سے سخت ناراض کانگریس پارٹی کے لیڈران نے شدید احتجاج کیا۔ اس دورران پورے ملک میں راہل گاندھی کی حمایت میں پارٹی کارکنوں نے مظاہرے کئے اور مرکزی حکومت پر شدید تنقیدیں کیں۔ قومی راجدھانی دہلی کے بھی مختلف مقامات پر کانگریس کارکنان اور لیڈران کی جا نب سے احتجاج کیا گیا اور مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی لیکن دہلی پولیس ضرورت سے زیادہ سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کے صدر دفتر میں زبردستی داخل ہو گئی اور اس نے یہاں موجود متعدد لیڈران کو حراست میں لے لیا ۔ اس سے کانگریس لیڈران اور کارکنان مزید بپھر گئے اور انہوں نے وہیں بیٹھ کر شدید احتجاج شروع کردیا۔اس دوران ۸۰۰؍ سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کئی لیڈر زیر حراست یا نظر بند ہیں۔
دہلی میں واقع کانگریس پارٹی کے صدر دفتر پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے اور آمدورفت کو منقطع کرنے کے لئے بیریکیڈنگ بھی لگادی گئی ہے لیکن یہاں لیڈروں اور کارکنوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جیسے ہی ان کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پولیس زبردستی صدر دفتر میں داخل ہوئی ہے تو ان کے یہاں پہنچنے کی تعداد اور بڑھ گئی ۔ ادھر، کانگریس کی خواتین لیڈروں اور کارکنوں نے بھی دہلی میں پارٹی دفتر کے باہر احتجاج کیا اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر حکومت مخالف نعرے لگائے۔ احتجاج کرنے والی کانگریس خواتین لیڈروں کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
دہلی پولیس کے کچھ اہلکار کانگریس کارکنان کو پکڑنے کے لئے کانگریس کے دفتر میں داخل ہو گئے حالانکہ وہ زیادہ اندر تک داخل نہیں ہو سکے کیوں کہ کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور انہوں نے پولیس کے خلاف ہی نعرے بازی شروع کردی۔ دہلی پولیس کے اہلکار احتجاج کر رہے کانگریس کارکنان کو پکڑنے کے لئے کل ہند کانگریس کمیٹی کے مرکزی دروازے سے اندر گھسے ضرور لیکن کانگریس کے احتجاج کے بعد وہ باہر واپس آ گئے۔ اس بات پر کانگریس کارکنان میں زبردست غصہ نظر آیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ’’آج دہلی پولیس زبردستی کانگریس کے دفتر میں داخل ہو گئی۔ انہیں کانگریس کارکنوں کے غصہ اور شدید احتجاج نے باہر نکالا اور اب ہم دہلی پولیس کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرنے کے لئے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کچھ لیڈروں اور نوجوان کانگریسیوں کو حراست میں لینے سے کانگریسیوں میں غصہ بڑھ گیا تھاجس کے بعد انہوں نے پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اس کے بعد پولیس نے کئی اور کانگریسی کارکنان کو گرفتار کر لیا لیکن کچھ لوگوں کو حراست میں لینے کے لئے پولیس صدر دفتر کے دروازہ کے اندر داخل ہو گئی جس پر کانگریس اراکین مشتعل ہو گئے۔ کانگریس کے سینئر لیڈران جو اندر ایک میٹنگ میں تھے، یہ سن کر میٹنگ چھوڑ کر باہر آ گئے اور دفتر کے مرکزی دروازے پر بیٹھ گئے اور دہلی پولیس و مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔
حالات خراب ہوتے دیکھ کر جو لیڈر مرکزی دروازے پر پہنچے ان میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، ادھیر رنجن چودھری، اجے ماکن، ناصر حسین، گورو گوگوئی، پون کھیڑا وغیرہ شامل تھے۔ ان لیڈران کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے اشارے پر دہلی پولیس کانگریس کارکنان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو گئی ہے اور راہل گاندھی اس ناکامی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اس لئے حکومت راہل گاندھی کی آواز دبانے کیلئے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ اجے ماکن نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کا اہم ستون ہے اور اگر اس کے دفتر پر ایسی کارروائی ہوگی تو اس کا سیدھا مطلب ہے کہ وہ اس ستون کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
ادھر راہل گاندھی سے لگاتار تیسرے دن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی پوچھ تاچھ جاری ہے۔ پارٹی کےسابق صدر راہل گاندھی گزشتہ دو دن کی طرح ای ڈی دفتر جانے سے پہلے پارٹی کےصدر دفتر 24اکبر روڈ پر نہیں پہنچے بلکہ وہ گھر سے سیدھے ای ڈی دفتر چلے گئے۔ واضح رہے کہ اب تک راہل گاندھی سے ۲۵؍ گھنٹے پوچھ تاچھ ہو چکی ہے۔